شکرالحمداللہ

سیلاب زمین بہالے گیا مگر اللہ پر یقین نہ چھین سکا،ممتاز گوندل نامی کی درد بھری داستان طالب والا پتن کے قریب بہلول پور کے رہائشی ممتاز گوندل نے شکرسے لبریزلہجے میں اپنی زندگی کی دردناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ 1987 کے تباہ کن سیلاب نے اس کی ساڑھے تین مربع زرعی اراضی نگل لی،زمین،روزگار اور برسوں کی جمع پونجی پانی کی نذرہوئی تو خاندان کو سنبھالنے کے لیے اسے دربدرکی ٹھوکریں کھانا پڑیں،مگر اس نے کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید نہیں توڑی،ممتاز گوندل نے کہازمین چھن گئی،حالات نے بہت رلایا،مگر اللہ تعالیٰ نے میرا ہاتھ نہیں چھوڑا۔میں نے چائے فروخت کرکے اپنے نو بچوں کی پرورش کی اور انہیں اپنے گھروں کا کیا،اب صرف سب سے چھوٹا بیٹا باقی رہ گیا ہے، اللہ اسے بھی گھر بار والا کردے،اس کا کہنا تھا،رزق نہ زمین میں ہے،نہ نوکری اور کاروبار میں رزق صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے،کوئی جوتیاں گانٹھ کربچوں کو پالتا ہے اور کوئی میرے جیسا چائے بیچ کر،اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے تنگ دستی میں بھی عزت دی،کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچایا اور اپنی ہر نعمت سے نوازا،ممتاز گوندل نے کہا کہ بعض لوگوں کے پاس بے حساب دولت ہوتی ہے مگر بیماری کے باعث وہ بہت سی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے،جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے محنت کی روٹی کے ساتھ ہرنعمت سے مستفید ہونے کی توفیق دی،میری زمین سیلاب لے گیا،مگر میرا ایمان، شکر اور اللہ پر بھروسا آج بھی قائم ہے۔میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔

#بہلول پور #ممتازکی داستان #دردبھری کہانی #اللہ کاشکر #رزق اللہ کی عطا #محنت کی روٹی #سیلاب_1987 #عزم وہمت #توکل علی اللہ #شکرگزاری #انسانی داستان

تبصرے

جواب دیں