کامونکی (نمائندہ خصوصی) گورنمنٹ پرائمری سکول میں زیرِ تعلیم 200 سے زائد بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہونے کی نشاندہی کرنے والے استاد گل زادہ خان کو معطل کر دیا گیا، جبکہ محکمہ تعلیم نے سکول کی خستہ حال عمارت کو خطرناک قرار دے کر سیل کر دیاہے جس سے متعلقہ اداروں کی نگرانی اور بچوں کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھ گئے،استاد گل زادہ خان کے مطابق وہ اپنے دل کے معالج کے پاس جانے کے لیے ایک ساتھی استاد کو لینے سکول پہنچے تھے، جہاں عمارت کی تشویشناک حالت دیکھ کر معصوم بچوں کو ممکنہ سانحے سے بچانے کی غرض سے سوشل میڈیا پر حکام کی توجہ مبذول کرائی۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد صرف بچوں کی جانوں کا تحفظ تھا،دوسری جانب ڈی ای او ایلیمنٹری (میل) گوجرانوالہ سبطین شاہ نے رانا کالونی سادھوکی کا دورہ کرکے عمارت خطرناک قرار دے دی اور اسے سیل کرتے ہوئے جلد متبادل عمارت میں منتقلی کی ہدایت کی، تاہم 21 اکتوبر کے محکمانہ حکم نامے میں استاد گل زادہ خان کو غیر مجاز دورے مبینہ گمراہ کن معلومات پھیلانے اور مس کنڈکٹ کے الزامات پرمعطل کرکے ڈاکٹر محمدشفقت کو انکوائری افسر مقرر کردیاہے، جو سات روز میں رپورٹ پیش کریں گے،سکول کی عمارت خطرناک قرارپانے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیارکر گیاہے کہ 200 سے زائد بچوں کے تحفظ،عمارت کی بروقت جانچ اورمحفوظ تدریسی ماحول کی فراہمی کے ذمہ دارمتعلقہ حکام کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا یا نہیں؟
کامونکی :دوسوسے زائد بچے بچیوں کی زندگیاں خطرے میں

جواب دیں