رانا گل نواز خاں نمبر دار
الحمدللہ! سیلاب سے متاثرہ راستہ دوبارہ آمدورفت کے قابل ہو گیا۔گزشتہ مہینے ایک بڑے سیلابی پانی آنے کی وجہ سے ہمارے گاؤں کا یہ قدیم راستہ بری طرح متاثر ہوا تھا،جس سے اہلِ علاقہ خصوصاً بزرگوں اور پیدل گزرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا،والدہ مرحومہ کی فاتحہ خوانی کے موقع پر گاؤں کے ایک تقریباً 80 سالہ بزرگ رفیق ارائیں نے اس راستے کی خستہ حالی کا ذکر کیا،جن کا مہروں کی تکلیف کے باوجود چہل قدمی معمول ہے،مگر خراب راستے نے ان کے لیے مشکلات پیداکر دی تھیں،ان کی بات نے احساس دلایا کہ بعض اوقات ہماری معمولی سی توجہ کسی دوسرے کی بڑی پریشانی دورکر سکتی ہے،اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال اپنی زمین خود کاشت کرنے کا موقع ملا،پہلے زمین ٹھیکے پر دی جاتی تھی،اس مرتبہ ٹھیکے کے برابر رقم الگ رکھنے کے بعدجو اضافی آمدن اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی،اس میں سے کچھ حصہ اسی راستے کی بحالی کے لیے مختص کرنے کی توفیق ملی ،الحمدللہ! آج راستے پر مٹی ڈال کر اسے دوبارہ آمدورفت کے قابل بنا دیا گیا۔اس چھوٹی سی کوشش میں ہم سب کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنی حلال کمائی کامعمولی سا حصہ اپنے اردگرد کی اجتماعی ضروریات پرخرچ کرے تو بہت سے مسائل مقامی سطح پر حل ہوسکتے ہیں،بلاشبہ عوامی سہولتوں کی فراہمی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے،لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بھلائی میں حصہ ڈالنا بھی ایک خوبصورت معاشرتی روایت ہے،نیکی کا تعلق رقم کی مقدار سے نہیں، نیت کے خلوص اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے سے ہے،آئیے!اپنے شہر،گاؤں اور محلوں میں ایک دوسرے کی مشکلات کو محسوس کریں اور جہاں ممکن ہو، ان کے حل میں اپنا حصہ ڈالیں،کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سب اپنی کمائی میں سے تھوڑا سا حصہ اجتماعی بھلائی کے لیے مخصوص کر لیں،اللہ تعالیٰ سب کی محنت اوررزق میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ایک دوسرے کے کام آنے کی توفیق دے۔آمین۔ #خدمت خلق #اجتماعی بھلائی #منڈیالہ_پونائچ #کامونکی

جواب دیں